منگل، 6 اکتوبر، 2015

کیا قرآن قطعی الدالتہ ہے؟



تحریر : عاصم بخشی

بنیادی بات:


(۱) ’’قرآن پاک "علم اللہ" ھے, حضرت رسول اللہ علیہ السلام کے شعور میں مفہوم ھونے والے معنی بعینہ وھی ھیں جو اللہ تعالی کے ھاں ھیں, صاحب ایمان اسی معنی کو سمجھنے کا مکلف ھے. جس کا شعور علم اللہ کے ادراک پر قانع نہیں, وہ حضرت رسول اللہ ع کے شعور سے آگے نکلنے کی سعی لاحاصل میں مصروف ھے.‘‘


(۲) ’’قرآن پاک کے جو معنی "علم اللہ" میں ھیں بالکل اور بعینہ رسول اللہ ص کے علم میں ھیں, بعینہ اور بالکل کی شرط کے ساتھ امتی کے علم میں نہ ھوں تو وہ قرآن پاک کو نہیں سمجھ رھا, وہ اپنے اوھام باطلہ میں گم ھے. قرآن پاک کے زریعے سے پیغمبری نہیں کی جاسکتی, بعض نادان اس واھمے میں مبتلا ھو کر قرآن پاک کی جدید تعبیر کرتے نظر آتے ھیں.‘‘

(۳) ’’اللہ تعالی, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صاحب ایمان, قران پاک کے معنی و مفہوم سے یکساں باخبر ھیں. ان تینوں ذوات میں کامل اشتراک فی العلم نہ ھو تو صاحب ایمان کا دعوی ایمان باطل ھے.‘‘

(۴) ’’بعض حضرات, علماء کے اختلاف سے نتیجہ اخذ کرتے ھیں " کلام اللہ شریف قطعی الدلالۃ نہیں, confusing ھے. اختلاف کرنے والے سارے علماء کو جاھل, بددیانت, بے علم اور بد کردار قرار دینا اتنا بڑا اخلاقی, علمی اور ایمانی جرم نہیں جتنا بڑا یہ فرض کرنا جرم ھے کہ قرآن پاک کا ابلاغ مدعا ناقص اور ناتمام ھے.‘‘

سوالات اور جوابات:

پہلا سوال تو یہ ہے کہ کلام کے خالق کی غایت یا original intention پر حتمی اعتبار سے کیا دعوے کئے جا سکتے ہیں؟ ہم فلسفۂ لسانیات میں نہیں جاتے، باوجود اس کہ کے یہ آپ کی دلچسپی کا موضوع ہے لیکن آپ کو یاد ہو گا کہ ہم ذاتی ملاقاتوں میں غامدی صاحب کے حوالے سے اس موضوع پر بات کر چکے ہی, لیکن کم از کم اس مسئلے کی پیچیدگی کو ماننا تو ناگزیر ہے۔ 

میرے نزدیک یہ ایک ضمنی مسئلہ ہے کہ غایت ایک ہوتی ہے یا زیادہ (تفصیل کے لئے اگلا نکتہ ملاحظہ کیجئے)، بنیادی مسئلہ مخاطب یا قاری کے اعتبار سے یہ ہے کہ کیا وہ کلام کے خالق کے شعور میں اترنے کا دعوی کر سکتا ہے؟ یعنی کیا میں human agency کی حدود کے اندر رہتے ہوئے یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ اب میں آپ کے شعور میں اتر کر بعینہِ وہی معنی اخذ کر چکا ہوں جو آپ کی مراد تھی؟ ظاہر ہے کہ اگر میں ایسا دعوی کر بھی دوں تو بحیثیت متکلم، آپ کی سند تو پھر بھی درکار رہے گی۔ یقیناً جس سے کلام کیا جا رہا ہے وہ معنی اخذ کرنے پر مکلف ہے، لیکن جو معنی وہ اپنے تئیں اخذ کرتا ہے، دعوی یہ ہے وہ اوہام باطلہ ہیں اور پھر یہ بھی لازم ٹھہرایا جا رہا ہے کہ شعورِ رسول میں اتر کر دکھاؤ تو ہم مانیں۔ 


دوسرا مسئلہ متکلم کی غایت کے تعدد کا ہے۔ جہاں تک تعدد کی بات ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معانی کی تحدید کا اس طور پر کیا جواز ہے کہ لغت کی one-to-many correspondence میں سے لازمی طور پر ایک اکائی کا انتخاب کر کے اس کو متکلم کا مافی الضمیر گردانا جائے؟ ظاہر ہے کہ غایت جب ملفوظ ہوتی ہے تو ایک ناگزیر semantic ambiguity ساتھ لے کر ہی ملفوظ ہوتی ہے، ورنہ متکلم اس کو ملفوظ نہ کرتا اور غایت کی ترسیل کے کسی اور طریقے پر انحصار کرتا۔ 

چوری والی مثال مییں منطقی طور پر ایک قسم کی ثنائی دوئی میں پھنس رہے ہیں، جس کے برعکس یہاں ایک many-valued منطق سے کام لینے کی ضرورت ہے، اور وہ بھی ایسی جس میں غایت متکلم کے شعور سے برآمد ہو کر ملفوظ ہوتے ہی اب معانی اخذ کرنے والے کو اپنے سے علیحدہ کرنے پر قادر نہیں۔ اس طرح یہ دعوی منطقی طور پر ناممکن ٹھہرتا ہے کہ فلاں مخاطب متکلم کے شعور میں اتر کر بعینہِ وہی معنی اخذ کر چکا ہے۔ ناممکن سے مراد یہ ہے کہ اس دعوے کی validation کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔ 

’زید چوری کرے تو ہاتھ کاٹ دو‘، میں مسئلہ یہ نہیں کہ ’چوری‘ کا لفظ حقیقت میں ایک سے زیادہ تصوراتی situation پر منطبق ہوتا ہے، اور متکلم کے پیش نظر کوئی ایک ایسی situation ہے جس تک پہنچتے ہی غایت کی دریافت کا عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا اور حتمی دعوی ممکن ہو گا۔ فی الحقیقت مسئلہ یہ ہے کہ جب متکلم نے یہ غایت ملفوظ کر دی تو اب اس میں ایک ناگزیر لسانی ابہام ہونا یقینی ہے۔ ابہام کے لفظ سے ہم پریشان ہو جاتے ہیں اس لئے میں انگریزی اصطلاح semantic ambiguity کو استعمال کر لیتا ہوں۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ متکلم قادر الکلام نہیں، بلکہ یہ زبان کی ماہیت میں موجود ایک جوہری مسئلہ ہے۔ متکلم نے اس ابہام کو قبول کر کے ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ کلام کیا جائے۔

آخری اور کسی حد تک اہم ترین، اور حد درجے حساس مسئلہ یہ بھی ہے کہ خدائے تعالی جب متن کی صورت میں کلام کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ متن خدائی شعور میں موجود معنی کی ترسیل کا ایک آلہ ہے، (اس کے بیچ میں ایک اور وسیلہ شعورِ نبی بھی ہے۔ ہم فتووں سے بچنے کے لئے اس کلامی بحث میں نہیں جاتے کہ علم اللہ کی ماہیتِ اصل، شعورِ نبی میں اترنے کے بعد کیا ایک درجہ تنزلی کا شکار ہوتی ہے یا نہیں) تو کم از کم اس حد تک رائے قائم کرنا ضروری ہے کہ اگر ہم قاری کے طور پر (اوپر نکتہ نمبر ۳ کے مطابق) ایک domain of semantic possibility میں سفر کر رہے ہیں، تو خدائی ذہن کو کس حد تک ایک کلام پیدا کرنے والے ذہن کی طرح تصور کیا جا سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ خدا نے انہی لفظوں کا انتخاب کیا جو انسان کے استعمال میں ہیں، اور ان کا اور حقیقت کا باہمی رشتہ ماورائے فہمِ انسان تو نہیں۔ اس سے قطع نظر کے خدائی کلام بحیثیتِ صنف مجموعی طور پر انسانی تخلیق کو اپنے سامنے کیسے عاجز کرتا ہے، ہمیں یہ تو دیکھنا چاہئے کہ خدائی ذہن جانتے بوجھتے ایک حقیر انسانی صنف میں کلام کر کے، اپنے آپ کو ایک ناگزیر ابہام کا شکار تو کر ہی رہا ہے۔ پھر اس پر مستزاد یہ کہ حروف مقطعات جیسے بظاہر مہمل اشارے بھی اسی کلام کا حصہ ہیں۔ ظاہر ہے ان کی غایت محض پہیلیاں بجھوانے کی تو نہیں، لیکن یہ کہنا کچھ ایسا بعید از قیاس بھی نہیں کہ خدائی ہدایت ملفوظ ہونے کی صورت میں انسان کو ایک ناگزیر لسانی چیلنج میں کود پڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس صورت میں انسان ہوتے ہوئے خدائی شعور میں اتر کر معنی اخذ کر لینے کا حتمی دعوی، ایک دیوانے کی بڑ نہیں تو اور کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں