تحریر: سید فواد بخاری
انسانی سوچ جس منبہ پر کھڑئ ھے وہ دماغ ھے۔ اسی دماغ کی حرکیات (ڈائنیمکس) کا نتیجہ اسی کی کوگنیشن (cognition) ھے۔ اسی کوگنیشن سے شروعاتی نوعیت کی منطق بھی تشکیل پاتی ھے۔ اس تشکیل شدہ منطق اور پھر اسی منطق سے مشاہدہ کئے گئے مشاہدات کے نتیجے میں عقل نے (حرکیاتی طور پر) ارتقا کیا۔ اور یوں عقل و تجربہ ساتھ چلتا رھا اور انسان اپنی سماجیات و معاشرت و اخلاقیات و سوچ میں وھاں کھڑا ھو گیا ھے کہ جہاں ابھی کھڑا ھے۔
اور اسی موجودہ سوچ اور مہیا شدہ منطق کے حوالے سے ابھی تک کی صورتحال یہ ھے کہ کسی بھی مشاہدے و سوچ کی مطلق تشریح ثابت ھو سکی نہ پیش کی جا سکی ھے ۔ اگر کسی پہلے مانے گئے سچ یا بدہی نکتہ کی بات ھوئی ھے (چاہے وہ الہامی ھو یا کوئی اور) تو عملی طور پر اسی نکتہ کی تشریح ہی معاشرے کے سامنے آئی ھے کہ جو پھر اضافی (ریلیٹیو) ہی رھا ھے۔ اور اس اضافی ھونے کی وجہ سے جو بات سامنے ابھر کر آئی ھے وہ یہی ھے کہ (شماریاتی طور پر) بقا کے نظام کے تحت ابھرتے اور ارتقا پاتے معاشرے میں کوئی بھی تشریح مکمل اور عین غلط قرار دینے کا کوئی مطلق پیمانہ ابھی حضرت انسان کے پاس نہیں آ سکا ھے۔ اور ایسے میں مطلق پیمانے کو پانے کیلیے انسانی دماغ سے تشکیل پاتی سوچ کی بنیاد کو بدلنا ھو گا، تضادات کو اپنی سوچ میں سمونا ھوگا (کہ جسکا سمونا پھر اسی منطق کئ تحت ہی ھے کہ جو ابھی تک معلوم اور رایئج ھے، ویسے شایئد نہ بھی ھو)۔ تضادات کو سمونے کی بابت ہیگل کے فلسفے اور کرٹ گیوڈیل کے علم ریاضی کے تھیورم آف انکمپلیٹنیس ملاخظہ فرمایئے)
اور جب تک ایسا (تضادات کو سمونا) نہ ھو سکے گا تب تک معلوم اور رایئج شدہ منطق اور اسی کے تحت بنتے معاشروں اور انہی معاشروں سے پنپتی اخلاقیات اور کسی حق کی تشریح کی بابت مطلقا کچھ نہ کہا جا سکے گا۔ اور یہ جاننے کا سفر ھمیشہ رھے گا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں