منگل، 6 اکتوبر، 2015

میری تشکیک

تحریر: عاصم بخشی


میں کوئی مفکر، دانشور, مبلغ یا تجزیہ کار نہیں۔ میرا مقصد کبھی بھی کسی کو قائل کرنا نہیں رہا۔ مجھ جیسے قنوطیت زدہ کنفیوز آدمی سے کسی بامعنی، خرد افروز، امید افزا تجزئیے کی امید رکھنا عبث ہے۔ اس طرح کی امیدیں لگانا چھوڑ دیجئے۔

میں فطرتاً کسی ایک نظرئیے کی کلیت اس طرح تسلیم کرنے سے قاصر ہوں کہ وہ ایک ہی نظریہ باقی تمام نظریوں پر حاوی سمجھوں، اسے تمام سوالوں کا جواب، تمام مشکلات کا بنیادی اور ناگزیر حل جانوں۔ میں شیطان تو نہیں، لیکن اگر اپنے ارد گرد دوسرے انسانوں کو اضطراب میں مبتلا رکھنا اور ان کے تصوراتی محلوں میں نقب زنی کی کوشش کرتے رہنا گناہ ہے، تو میرا ’شیطانی‘ عذر یہی ہے کہ اس پر میرا کوئی اختیار نہیں۔

میری رائے میں کسی بھی مفروضہ منظرنامے میں پیچیدگی پیدا کرنے کی یہ خواہش کوئی تخریبِ فکر نہیں کیوں کہ میرے نزدیک تخریبِ فکر کسی بھی ایسے نظرئیے کے ساتھ پرخلوص وابستگی اور دوسروں کو وابستہ کرنے کی کوشش ہے جس میں امکانی حد تک بھی کسی دوسرے انسان پر استبداد لازم آئے۔
مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ نظریہ خلافت کا ہے یا جمہوریت کا، جدید سیاسی و معاشی اسٹکرچر میں جبراً ٹیکس لگانے کا یا تلوار کے زور پر زکوٰۃ اکٹھی کرنے کا۔ میں اسے فطرتاً شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور ہوں۔

اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ میں کسی نراجی نظریے کا ماننے والا ہوں یا فطرتاً بغاوت و انکار پر مائل ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میں اپنی تشکیک میں بہت بزدل واقع ہوا ہوں۔ ظاہر ہے کہ ان گنت زمانی و مکانی عوامل کے ہاتھوں میں کسی بھی دوسرے انسان جتنا ہی مجبور ہوں، بس اتنا ہے کہ میں اس جبر کو جبر مان کر اس کے نیچے رہنا قبول کرتا ہوں۔ میں خدا کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتا کہ اس نے مجھے اپنے انبیا علیہم السلام میں سے کسی کے زمانے میں بھی پیدا کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ لیکن اگر ایسا ہوتا تو میں تو اتنا ڈرپوک ہوں کہ شاید صرف خدا کی ’قل ارئیتم ان کان من عند اللہ و کفرتم؟‘ جیسی چشم کشا تنبیہہ سے ڈر کر ہی فوراً اسلام قبول کر لیتا۔
لیکن میری بدقسمتی یہ ہے میں پھر بھی کہیں اندر ہی اندر اسے ’جبر‘ ماننے پر مجبور ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ دوسرے انسانوں کے لئے یہ اعترافِ جبر اتنے اضطراب کا باعث کیوں ہے؟ اگر انسان اپنے حادثۂ پیدائش جیسے جبر کے نیچے رہنا قبول کر لیتا ہے تو پھر کسی انسانی نظرئیے کا جبر اس کے آگے کیا ہے؟

جبر کی بھی ان گنت جہتیں ہیں لیکن میں بیش تسہیلی سے کام لیتے ہوئے اسے جاننے اور ماننے میں بانٹتا رہتا ہوں یعنی جبرِ علم اور جبرِ ایمان۔ کچھ حقائق کو جان لینے یا ان کے وقوع پذیر ہو جانے سے ان کے آگے ہار مان لینا لازم آتا ہے اور کچھ حقائق پر یقین اس درجۂ انتہا کو چھونے لگتا ہے کہ ایمان لائے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔
کاش میں کسی قدیم انسان کی طرح کسی درخت کے نیچے لیٹے گھنٹوں آسمان کو دیکھ سکتا اور اس جبر کا دائرہ محدود ترین ہوتا۔ جاننے اور ماننے کو اس سے زیادہ کچھ نہ ہوتا کہ میں کسی ماورائے فہم حقیقتِ مطلق کا ناقابلِ فہم اظہار ہوں جو اندر اور باہر سے میرا احاطہ کئے ہے، چاہتی ہے تو مجھے نگل لیتی ہے اور چاہتی ہے تو اگل دیتی ہے۔

لیکن افسوس ایسا نہیں۔ میں ایک نظریاتی کائنات میں ہوں جو تکرار سے جانے اور مانے جانے کا تقاضا کرتی ہے لہٰذا ہر لمحہ شک پر، سوال اٹھانے پر مجبور ہوں، جاننے اور ماننے کا یہ ایک ایسا تسلسل ہے جو رکنے میں ہی نہیں آتا، واقعات ہیں کہ بلاوقفہ وقوع پذیر ہوئے جا رہے ہیں۔ ان سے نظریں چرانا ناممکن ہے۔ کیوں؟ کیسے؟ کس لئے؟ جیسے سوال اب انسان کے جینیاتی مادے کا بنیادی جزوی ہیں۔ یہ کائنات اب ایک ریاضیاتی مظہر بن چکی ہے، ایک conception، ایک تصور، ایک idea، کسی آسیب کی طرح دل و دماغ پر سایہ کئے ہے۔ ایسے میں انسان نفسیاتی طور پر یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کوئی ایک ٹھوس نظریہ اسے منزل تک پہنچا سکتا ہے، وہ منزل ایک اگلا خوبصورت جہان بھی ہو سکتی ہے، ایک ایسا عالمگیر مسرتوں بھرا رشتہ بھی جس میں تمام انسان ایک دوسرے سے منسلک ہوں یا کوئی اور خوبصورت یوٹوپیا۔

لیکن میں ایسی تمام منزلوں اور ان کی جانب جانے والے راستوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، میری کمزور آنکھیں ایسے چکا چوند خوابوں کی روشنی میں چندھیا جاتی ہیں اور منظر دیکھنے کے قابل نہیں رہتیں۔ میں دوبارہ اصرار کرتا ہوں کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں ان منزلوں کی جانب سفر نہیں کرتا یا سفر کرنے والوں کے راستے کی دیوار ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں لیکن میں یہ سفر محض مجبوری میں کرتا ہوں اور مجبوری مان کر کرتا ہوں۔

لہٰذا اس برقی جہانِ حرف و معنی کے دوسرے کئی باسیوں کے برعکس میرے لئے یہ بنیادی طور کوئی نظریاتی میدان نہیں۔ میں ان لاگاتار بے ربط، پریشان خیال عبارتوں سے کسی مشن کے لئے کوئی خدائی فوجدار اکھٹے نہیں کر رہا اور نہ ہی یہ میرے لئے کوئی نظریاتی جنگ ہے۔ یہ جہانِ متن محض میرے تشکیک زدہ، مجبور وجود و فکر کی extension ہے اور یہ ممکن نہیں کہ میرے وجود و فکر کا پھیلاؤ میرے ارد گرد اضطراب و ابہام پیدا نہ کرے۔
لہٰذا جب آپ میری کسی بلند آواز خودکلامی کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی ’علمی‘ بات یا ’بامعنی تجزیہ‘نہیں یا یوں سوچتے ہیں کہ جو راستہ مجھے سامنے اتنا صاف دکھائی دے رہا ہے یہ شخص اس پر چلنے سے کیوں قاصر ہے، کیوں بھٹک گیا ہے، لڑکھڑاتا کیوں ہے، جم کر پیر کیوں نہیں رکھتا، وغیرہ وغیرہ تو اس کے جواب میں بس میں یہ حسرت ہی ظاہر کر سکتا ہوں کہ کاش آپ میرا فلک شگاف دیوانہ وار قہقہہ سن سکتے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں